ایک تھا مصر کا بادشاہ جس کا نام تھا عاصم اس کے بیٹے کا نام تھا سیف جس کے نام پر جھیل کا نام مشہور ہے
سیف شہزادےکو ایک دفعہ خواب آئی خواب میں اس نے اس جھیل کو بھی دیکھا اور اس جگہ کو بھی دیکھا اور ساتھ پری کو بھی دیکھا جس کا نام تھا بدیع الجمال اس سے پہلے یہاں انسانوں کی آبادی نہیں تھی
سب سے شہزادہ سیف یہاں ایا تو اور اسی نے اس جگہ کو تلاش کیا تھا۔
شہزادے نے خواب دیکھنے کے بعد صبح وہ خواب اپنے والد کو بتائی ۔
بادشاہ نے کہا بیٹا یہ جگہ اور پری تو اپکو مل جائے گی لیکن اس کیلے اپکو کافی محنت کرنی پڑے گی ۔
شہزادے نے رخت سفرباندھا اور سفر شروع کردیا ایک سال تو اسکو مصر میں ہی لگ گیا اسکو کسی بھی طرح اس جھیل کا سراغ نہ ملا سال کے بعد اللہ کی قدرت سے ایسا ہوا کہ چاند کی چودویں رات تھی مصر میں ہی اسکو ایک بزرگ سے سامنا ہوگیا اس نے بتایا کہ ایک ملکہ پربت پہاڑ ہے ( ملکہ پربت اس چوٹی کو کہتے ہیں جو سیف الملوک جھیل سے شمال کی جانب واقع ہے جھیل اسی چوٹی کے دامن میں ہے)
لوگ کہتے ہیں کہ اج تک کوئی اس چوٹی کو سر نہیں کر سکا کہا جاتا ہیکہ اس پر جنوں اور پریوں کا قبضہ ہے ۔
اچھا تو اتے ہیں کہانی کی طرف ۔
اس شہزادے کو بزرگ نے کچھ علم دیا جس کے مدد سے دو جن شہزادے کے طابع ہوگئے جنہوں نے شہزادے کو وہاں سے اٹھایا اور سیف الملوک جھیل کے سامنے جس جگہ ایک چھوٹی مسجد بنی ہوئی ہے وہاں پر لاکر چھوڑ دیا ۔
جہاں سے اجکل ہم جھیل پر جاتے ہیں اس وقت یہاں سے جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا جھیل بہت بلند تھی اور ملکہ پربت کے دامن تک پھیلی ہوئی تھی۔
شہزادہ وہاں پہنچ کر جھیل کو پہچان گیا شہزادے نے 40 دن تک عبادت کی (چلا کاٹا)
40ویں دن کے بعد چاند کی چودویں رات تھی شہزادے نے دیکھا کہ جھیل کے اندر پریاں اتر کر نہا رہی ہیں اور ایک پری کے ساتھ 7 سات پریاں الگ ہیں اور ایک پری ان میں سے مختلف ہے جو شائد بدیع الجمال ہی تھی اور باقی سات اسکی باندیاں۔
شہزادے نے فورا ان دو جنوں کو طلب کیا اور پوچھا کہ کیسے وہ اس پری کو حاصل کرے گا ۔
جنوں نے پریوں میں سے پری بدیع الجمال کا تاج اٹھایا اور شہزادے کو دے دیا پریاں جب جھیل سے نکلی اور اپنے اپنے تاج پہنے تو ملکہ کا تاج غائب تھا ملکہ نے تاج کے بارے دریافت کیا تو باقی پریاں پرشان ہوگی اور گھبرا گئی۔
اسی گھبراہٹ میں وہ بھاگ گئی اس دوران شہزادہ بدیع الجمال کے سامنے اگیا شہزادے کے پاس تاج دیکھا تو پری نے کہا کہ میرا تاج مجھے واپس دے دو میں ایک دیو کے قبضے میں ہوں اور وہ دیو یہاں پہنچاتو تمھیں اور مجھے مار ڈالے گا
شہزادے نے یہ بات نہ مانی اور کہا کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا تم میرے ساتھ چلو شہزادے پری کو ساتھ لے کر ناران کی طرف نکل آیا ناران اس وقت بیابان جنگل ہوتا تھا وہاں شہزادہ ساتھ ساتھ دعا بھی مانگتا رہا
دوسری طرف جو پریاں واپس گئی تھی انہوں نے جاکر فورا دیو کو بتادیا کہ اج جھیل میں ہم سے بدیع الجمال بچھڑ گئی یے دیو فورا جھیل پر پہنچا اور اس نے جھیل پر پری کو تلاش کیا اسکو پری نہ ملی اسکو غصہ ایا اسنے جھیل کی سامنے والی جانب پاؤں مارا جس سے جھیل ٹوٹ گئی اور جھیل کا سارا پانی نیچے کی جانب بہنے لگا پانی فلڈ کی شکل میں ناران میں داخل ہوا پری اور شہزادہ راستے میں تھے انہوں نے پھر دعا مانگی انکی دعا قبول ہوئی زمین کے اندر ایک غار بن گئی پری اور شہزادہ اس میں داخل ہوگئے دائیں اور بائیں جانب سے سیلاب گزر گیا ۔
کہا جاتا ہیکہ وہ غار آج بھی موجود ہے اور اس میں روشنی کام نہیں کرتی ۔
دوسری طرف دیو نے تلاش نہ چھوڑی وہ دوسری جانب نکلا پہاڑ کی دوسری جانب جلکھڈ کے پاس اس کا پاوں دلدل میں پھنس گیا جس جگہ کو آج پیالہ جھیل کہتے ہیں اس میں پانی زیر زمین زخیرے سے اتا یے۔
کافی دن تلاش کرنے کے بعد اسکو پری نہ ملی تو اس نے ایک بلند پہاڑ سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی پری اور شہزادہ بہت عرصہ تک اس غار میں رہے بعد میں ان جنوں نے جو شہزادے کے قبضے میں تھے انہوں نے شہزادے کو بتایا کہ جن اب ختم ہوچکا ہے اب تم اپنے ملک واپس جا سکتے ہو پری اور شہزادے کو انہوں نے اٹھایا اور مصر پہنچا دیا اور وہ خوشی سے باقی زندگی بسر کرنے لگے۔
اس شہزادے کے نام سے جھیل سیف الملوک کا نام مشہور ہوا ملوک اسکو اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں شہزادے کی پری سے ملاقات ہوئی یہ کہانی اگلی نسلوں کو پتہ لگی اور نسل در نسل منتقل ہوتی یہاں تک پہنچی۔
چاند کی چودویں رات کو اس جھیل کا منظر بہت خوب صورت ہوتا یے جب چاند جوبن پر ہوتا ہے تو رات کو جھیل کا منظر دیدنی ہوتا ہے ۔چاند پہاڑ رات اور ستارے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہیکہ اس رات کو برگزیدہ بندوں کو جن اور
پریاں نظر بھی اتی ہیں۔
مجھے یہ کہانی میاں اشرف نے سنائی ہے جو وہاں سیف الملوک کے پاس رہتا یے جس کی عمر 70 سال سے زائد یے ۔
میاں اشرف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے جن اور پریاں دیکھی بھی ہیں ۔

اس کہانی کے سچ اور جھوٹ ہونے سے قطعہ نظر اس کے مشہور ہونے اور پرانے لوگوں سے تواتر کے ساتھ اسکو سننے کے بعد اسکو قارئین کی نظر کررہا ہوں امید ہیکہ پسند ائے گی