8.5 C
New York
Friday, January 16, 2026
Blog Page 22

فیس بک میں ایک اکاؤنٹ میں کئی پروفائلز ایڈ کرنے کا فیچر

فیس بک نے صارفین کی کم ہوتی ہوئی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوتے ہوئے ملٹی پل یوزر فیچر متعارف کرادیا ہے جسکی بدولت ایک اکاؤنٹ سے مزید 4پروفائل بنائے جاسکیں گے۔

بلومبرگ رپورٹ کے مطابق میٹا کی طرف سے سماجی رابطہ کی  ویب سائٹ کے صارفین میں میں ہو نے والی کمی  کے پیش نظر نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے۔

فیس بک کے اس نئے فیچر کےذریعے ایک ہی تعارف سے 4 دیگر پروفائل بنانے کی اجازت ہوگی جو مرکزی آئی ڈی سےجڑے ہونگے،مین آئی ڈی یا لنکڈ پروفائل سے ہونے والی خلاف ضابطہ کسی بھی سرگرمی پر فیس بک انتظامیہ کی طرف سے آنے والے ردعمل کا اطلاق تمام اکاؤنٹس پر ہوگا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ  کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے اس نئے فیچر کو کسی بھی جعلی یا جھوٹے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی ممانعت ہے۔

انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے فیچرکوصارفین دوستوں، ذاتی دلچسپیوں کیلئے مختص کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف انداز میں استعمال کریں گے ۔

فیس بک کے مطابق صارفین کو پروفائلز کے لیے پلیٹ فارم کے قوانین کی پابندی کرنا ہوگی، یعنی مخصوص مواد جیسے نفرت انگیز مواد اور تشدد کی دھمکیوں وغیرہ کو پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ان پروفائلز کو کسی دوسرے فرد کے طور پر ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

فی الحال یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیچر کب تک تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

خبردار!!! گوگل پر کبھی یہ 5 چیزیں سرچ نہ کریں، ورنہ زندگی بھر پچھتائیں گے

انٹرنیٹ اتنا عام ہو چکا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بات جاننے کے لیے بھی ہم گوگل کا سہارا لیتے ہیں۔

گوگل دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن ہے، جہاں شاید ہی کوئی ایسی چیز یا مواد ہو جو دستیاب نہ ہو۔

لیکن بعض اوقات ہم بنا سوچے سمجھے کچھ ایسا مواد سرچ کر لیتے ہیں جو انجانے میں ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ویسے تو کئی ایسی چیزیں ہیں جنہیں سرچ کرنے سے ہمیں اجتناب کرنا چاہئیے، لیکن یہاں ہم آپ کو پانچ ایسی چیزیں بتا رہے ہیں جن سے ہر صورت گریز کرنا چاہئیے۔

بیماری کی علامات

اگر آپ بیامر محسوس کر رہے ہیں تو ہر گز علامات گوگل نہ کریں، گوگل آپ کو کبھی بھی صحیح مرض تشخیص نہیں کرتا، جب آپ کی تشخیص غلط ہوگی تو آپ دوائیں بھی غلط استعمال کریں گے اور یہ کسی صورت بھی فائدہ مند نہیں ہے اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے اگر آپ بیمار ہیں تو طبیب سے رجوع کریں۔

بم بنانے کی ترکیب

گوگل پر جرائم، منشیات، بم یا کسی قسم کا ہتھیار بنانے کی ترکیب ڈھونڈنا آپ کو ناگہانی مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔

ملک کی سیکیورٹی ایجنسیاں اس طرح کے مواد پر نظر رکھتی ہیں اور آپ کے کمپیوٹر کا آئی پی ایڈریس ان کے ڈیٹا بیس میں آسکتا ہے، جس سے آپ نا چاہتے ہوئے بھی مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔

کینسر

فرض کریں آپ کو ہلکا پھلکا بخار، کھانسی یا الرجی سے کچھ دانے نکل آئے ہیں، آپ کو سمجھ نہیں آیا کہ آخر وجہ کیا ہے اور آپ نے گوگل پر علامات سرچ کرلیں۔

آپ کو یہ جان کر شدید جھٹکا لگے گا کہ گوگل ان علامات کو کس طرح کینسر سے جوڑتا ہے۔

خطرناک جانور

دنیا بھر میں کئی خطرناک اور نادر جانور پائے جاتے ہیں، ان میں سے چند آپ کے خطے میں بھی موجود ہوں گے۔

ان جانوروں سے متعلق جاننے کے لیے گوگل کا سہارا نہ لیں، کیونکہ ان کے خوف سے آپ سفر کرنے سے ڈریں گے اور آپ کے معمول کے کام متاثر ہوں گے۔

اپنا نام

گوگل پر اپنا نام ڈھونڈنے سے بھی گریز کریں، کیونکہ گوگل کے ڈیٹا بیس میں آپ کی پرانی تصاویر اور معلومات سامنے آئیں گی جو ہو سکتا ہے کہ آپ کے لیے زیادہ خوش گوار ثابت نہ ہو۔

Elon Musk going to build a new social media platform

Elon Musk has been critical of Twitter and its policies of late. He has said the company is undermining democracy by failing to adhere to free speech principles.

Tesla Inc Chief Executive Officer Elon Musk is giving “serious thought” to building a new social media platform, the billionaire said in a tweet on Saturday.

Musk was responding to a Twitter user’s question on whether he would consider building a social media platform consisting of an open-source algorithm and one that would prioritize free speech, and where propaganda was minimal.

Musk, a prolific user of Twitter himself, has been critical of the social media platform and its policies of late. He has said the company is undermining democracy by failing to adhere to free speech principles.

His tweet comes a day after he put out a Twitter poll asking users if they believed Twitter adheres to the principle of free speech, to which over 70% voted “no”.

If Musk decides to go ahead with creating a new platform, he would be joining a growing portfolio of technology companies that are positioning themselves as champions of free speech and which hope to draw users who feel their views are suppressed on platforms such as Twitter (TWTR.N), Meta Platform’s (FB.O) Facebook and Alphabet-owned (GOOGL.O) Google’s YouTube.